باج[2]

قسم کلام: اسم نکرہ

معنی

١ - ساز کے بجنے کی کیفیت، طریقہ، آواز یا عمل، بجانا۔ "اس کے بعد خان صاحب نے سوچا کہ سارنگی میں دوسرے سازوں کا باج کس طرح ڈھالا جا سکتا ہے۔"      ( ١٩٦٢ء، گنجینہ گوہر، ١٨١ ) ٢ - باجا۔ "جہاں کے باج کس راج میں کون بجاتا ہے۔"      ( ١٨٦١ء، فسانہ عبرت، ٨٥ ) ٣ - گھنٹے کا بجنے والا پرزہ۔ (اصطلاحات پیشہ وراں، 163:1)

اشتقاق

سنسکرت میں اصل لفظ 'بادیا' ہے۔ اردو زبان میں اس سے ماخوذ اصلی معنی میں 'باج' مستعمل ہے۔ ہندی میں بھی 'باج' ہی مستعمل ہے دونوں کا ماخذ سنسکرت ہی ہے اردو میں ١٨٧١ء میں "دریائے تعشق" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - ساز کے بجنے کی کیفیت، طریقہ، آواز یا عمل، بجانا۔ "اس کے بعد خان صاحب نے سوچا کہ سارنگی میں دوسرے سازوں کا باج کس طرح ڈھالا جا سکتا ہے۔"      ( ١٩٦٢ء، گنجینہ گوہر، ١٨١ ) ٢ - باجا۔ "جہاں کے باج کس راج میں کون بجاتا ہے۔"      ( ١٨٦١ء، فسانہ عبرت، ٨٥ )

اصل لفظ: بادیا
جنس: مذکر